صفحات

زکوۃ کے قرآنی مصارف

  

قرآن شریف میں زکوۃ کی آٹھ مدّات کا حکم ہے:

  1. فُقراء :زکوۃ فقیروں کے لیے جو تنگ دست ہوں۔یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی زندگی بڑی مشکل سے گزار رہے ہوں مگر کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلاتے ہوں
  2. مساکین :۔مساکین وہ ہیں جو اپنی ضروریات پوری نہیں کر سکتے۔ یہ بہت ہی تنگ دست لوگ ہیں جو اپنی ضروریات پوری نہیں کر سکتے کمانے کے قابل ہوں مگر روزگار نہ ملتاہو
  3. عا ملین علیہا :۔یعنی زکوۃ کا مصرف زکوۃ وصول کرنے پر جو مامورہوں۔ اسلامی حکومت ان کو جو کچھ تنخواہ کی مد میں دے 
  4. ۔موئلفۃالقلوب :۔ زکوٰۃ اُن کے لیے جن کی تالیف قلب مطلوب ہوںیعنی جو لوگ نئے نئے مسلمان ہوئے ہوں یا جنکی اسلام دشمنی کو کم کرنے میں مدد کی ضرورت ہو 
  5. فی الّرقاب :۔اس سے مراد جو شخص غلام ہواسکو آ زاد کرانے میں یعنی غلاموں کی آزادی کے لیے زکوۃ کا استعمال جائز ہے۔آجکل جیل کے اندر قیدحقدار قیدیوں کی رہائی کے لیے زکوٰۃ استعمال کیا جا سکتی ہے
  6.   الغارمین :۔اس سے مراد جو لوگ قرضدار ہو ں مگر اپنا قرض ادا نہ کر سکتے ہوں ان کا قرض ادا کرنے کے لیے زکوۃ استعمال کی جا سکتی ہے
  7. فی سبیل اللہ:۔اللہ کے دین کو قائم کرنے کے لیے یعنی جہاد کے لیے زکوۃ استعمال کی جا سکتی ہے کوئی شخص مال دار ہے مگر اللہ کے دین کو قائم کرنے میں لگا ہوا ہے اس کو بھی ز کو ۃ دی جا سکتی ہے
  8. ابنُ السّبیل:۔ اگر کوئی شخص مسافر ہے اور اسے پیسے کی ضرورت ہے اس کی زکوۃ میں سے مدد کی جاسکتی ہے چاہ وہ اپنے ملک میںما لدار ہی کیوں نہ ہو۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صدقہ کسی غنی یعنی مالدار کے لئے حلال نہیں بجز مندرجہ ذیل پانچ شخصوں کے :ایک وہ شخص جو جہاد کے لئے نکلا اور وہاں اس کے پاس بقدر ضرورت مال نہیں، دوسرے عامل صدقہ جو صدقہ وصول کرنے کی خدمت انجام دیتا ہو۔ تیسرے وہ مالدار ہو جسکے مال سے زیادہ اس پہ قرض ہو ۔چوتھا وہ شخص جو صدقہ کا مال کسی غریب مسکین سے پیسے دے کر خرید لے۔پانچواں وہ شخص جس کو کسی غریب فقیر نے صدقہ کا حاصل شدہ مال بطور ہدیہ تحفہ پیش کر دیا ہو ۔ان لوگوں کے متعلق بیان کیا گیا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کی دل جوئی کیلئے ان کی صدقات دئیے جاتے تھے عام طور پر یہ بیان کیا جاتا ہے کہ ان میں تین چار قسم کے لوگ شامل تھے جو مندرجہ ذیل ہیں:
غیر مسلم
2۔حاجت مند غریب نومسلم مسلمان تاکہ اسلام پر پختہ ہو جائیں۔
3۔بعض وہ مسلمان تھے جن کی قوم کو ان کے ذریعے ہدایت پر لانا مقصد تھا۔
4۔بعض وہ لوگ تھے جن کو حسن سلوک سے متاثر کرنا تھا۔
غیر مسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب اسلام و مادی قوت حاصل ہو گئی تھی اس لئے ان کا حصہ بھی ختم ہو گیا تھا۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ،حسن بصری ،ابوحنیفہ ،مالک بن انس کی طرف سے یہی منسوب ہے ۔
تفسیر مظہری میں واضح ہوا ہے کہ بعض روایات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر مسلم کو عطیات دئیے ہیں اس لئے صحیح مسلم اور ترمذی میں جو مذکور ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوان بن امیہ کو کافر ہونے کے زمانے میں کچھ عطیات دئیے تھے اس کے متعلق امام نووی نے تحریر کیا ہے کہ یہ زکوٰة کے مال سے نہیں تھے بلکہ غزوہ حنین کے مال غنیمت سے تھے ۔یہاں یہ بھی معلوم ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت المال میں بھی زکوٰة کاحساب کتاب علیحدہ تھا تاکہ اس کا مصرف بھی اس احکام کے مطابق ہو ۔
رقاب رقبہ کی جمع ہے جس کے معنی ہیں ”گردن“۔اس لفظ کا استعمال اس شخص کے لئے کیا جاتا ہے جس کی گردن کسی دوسرے کی غلامی میں مقید ہو۔اس لئے رقم زکوٰة دے کر ان لوگوں کی مدد کی جائے ۔یہاں یہ دیکھنا ہو گا کہ کون سے غلام کی بات ہو رہی ہے ۔جمہور فقہااس پر ہیں کہ یہ وہ غلام ہیں جن پر ان کے آقا نے یہ شرط رکھی ہو کہ اتنا مال کما کر دیں گے تو آزاد کر دےئے جائیں گے ۔
ایسے غلام کی آزادی میں زکوٰةکا مال دے کر ان کی آزادی میں ان کی مدد کی جائے۔
غارم کے معنی قرضدار کے ہیں ۔شرط یہ ہے کہ قرضدار کے پاس اتنا مال نہ ہو کہ جس سے وہ قرض ادا کر سکے۔کیونکہ غارم لغت میں ایسے قرضدار کو کہا جاتا ہے ۔بعض فقہا نے یہ بھی کہا کہ قرضدار نے یہ قرض کسی ناجائز کام کیلئے نہ لیا ہو۔اگر کسی گناہ کیلئے قرض لیا ہو جیسے شراب وغیرہ کے لئے یا شادی غمی کی ناجائز رسومات کے لئے تو ایسے قر ضدادر کو زکوٰة کے مال میں سے نہ ادا کیا جائے ورنہ زکوٰة ادا نہ ہو گی۔
تفسیر کشاف میں ہے کہ اس اعاد ہ سے اس طرف اشارہ ہے کہ یہ مصرف پہلے سب مصارف سے افضل اور بہتر ہے ،اس کی وجہ یہ ہے کہ اسمیں دو فائدے ہیں ایک تو غریب مفلس کی امداد دوسرے ایک دینی خدمت میں اعانت ۔مندرجہ ذیل لوگ فی سبیل اللہ میں شامل ہیں :وہ غازی یا مجاہد شخص جس کے پاس اسلحہ اور جنگ کا ضروری سامان خریدنے کے لئے مال نہ ہو۔
وہ شخص جس کے ذمہ حج فرض ہو چکا ہو لیکن اس کے پاس مال نہیں رہا جس سے وہ حج ادا کر سکے۔
وہ طالب علم جن کے پاس علم حاصل کرنے کے لئے مال نہ ہو۔وہ شخص جو نیک کام یا عبادت کرنا چاہتا ہو ،اس کی ادائیگی میں مال کی ضرورت ہو اور اس کے پاس اتنا مال نہ ہو جس سے اس کام کو پورا کیا جا سکتا ہے جیسے دین کی تعلیم ،تبلیغ اور نشرواشاعت تو اس کی امداد مال زکوٰة سے کی جاسکتی ہے۔

*******************
ddd
رشتے داروں میں زکات کا مستحق کون کون ہو سکتا ہے
زكات کے مستحق
اہل زكات وہ لوگ ہیں جو زكات کے مستحقین ہیں۔زكات کے مستحقین: آٹھ قسم کے لوگ ہیں جن کا تذکرہ اللہ تعال ی
نے سورۃ توبہ میں کیا ہے۔
اللہ تعال ی فرماتے ہیں " صدقے صرؾ فقیروں کے لیے ہیں اور مسکینوں کے لیے اور ان کے وصول کرنے والوں
کے لیے اور ان کے لیے جن کے دل پرچھائے جاتے ہوں اور گردن چھڑانے میں اور قرض داروں کے لیے اور
اللہ کی راہ میں اور راہدومسافروں کے لیے فرض ہے اللہ کی طرؾ سے اور اللہ علم اور حکمت والا اہے "
﴾ ﴿التوبۃ: ۰۶
1 فقیر -
الفقراء
فقیر کی جمع ہے جسکے پاس اپنی ضرورت، گھروالوں کی ضرورت یعنی کھانا پینا، کپٹرے اور مکان وؼیرہ
کیلئے کچھ نہ ہو ۔
اور اسے زكات میں سے اتنا دیا جائے گا جو اس کے لیے اور اس کے گھر والوں کے لیے ایک سال تک کافی ہو۔
2 المساکین -
المساکین
المساکین مسکین کی جمع ہے جسکے پاس اپنی ضرورت کا آدھا ہو یا اس سے زیادہ ہو مثل ا اس کے پاس سو روپے
ہوں اور وہ دو سو کا محتاج ہو تو زكات سے اسکو اتنا دیا جائے گا جو اس کے لیے اور اس کے گھر والوں کے
لیے ایک سال تک کافی ہو۔
3 زكات وصول کرنے والے -
العاملون علیھا
عامل وہ لوگ ہیں جو بادشاہ کی طرؾ سے زكات لینے پر مامور ہوتے ہیں تو زكات سے انکو اجرت انکے کام
کے مطابق دی جائیگی اگرچہ وہ مالدار ہی ہوں۔ کیونکہ عامل نے اپنے آپ کو اس کام کیلئے فارغ کیا ہے۔ ہاں اگر
انکو حکومت کی طرؾ سے کوئی اجرت یا تنخواہ ملتی ہوتو پھر انکو زكات سے نہیں دیا جائیگا اور وہ سب لوگ
عاملین میں داخل ہیں جو زكات کے وصول کرنے میں اسکے لکھنے میں اسکی حفاظت میں اور اسکو مستحق
لوگوں میں تقسیم کرنے پر مامور ہوتے ہیں
عاملین زكات کو زكات دینا
عامل زكات اور قرض دار کو زكات دینا جائز ہے اگرچہ وہ مالدار ہی کیوں نہ ہو اور اگر کوئی تندرست آدمی طلب
علم کے لیے نکلتا ہے تو اسکو بھی زكات دینا ٹھیک ہے کیونکہ علم حاصل کرنا جہاد کے مترادؾ ہے اور یہی
حکم حقیقی مجاہد اور مؤلفۃ القلوب کا ہے ہاں البتہ اگر کوئی شخص نفلی عبادت کے لیے کنارہ کشی/گوشہ نشینی
اختیار کرتا ہے تو اسکو زكات دینا ٹھیک نہیں ہے کیونکہ عابد کا نفع اسکی ذات تک محدود ہے اور علم کا نفع
پورے مسلمان معاشرے کے لیے ہے۔
4 ان لوگوں کا بیان جن کو اسلم کی طرؾ راؼب کرنے کے لیے زكات دی جا تی ہے۔ -
مؤلفۃ قلوب
مؤلفۃ القلوب کسی قوم کے بڑے لوگوں، سرداروں کو زکوۃ اس لیے دینا کہ وہ اسلم یا ایمان لے آئیں یا ان کے شر
سے بچا جائے یا ان کے ایمان مضبوط ہو جائیں یا ان کو مسلمانوں کے دشمنوں سے ملنے سے روکا جائے۔اور
زكات سے انکو انکے دل کی نرمی کے بقدر دیا جائیگا۔
انکو زكات میں سے اتنا دیا جائے گا کہ ان کے دل اسلم کی طرؾ راؼب ہو جائیں۔
۵۔ؼلم
الرقاب
ؼلم اور مکاتب: جو اپنے آقا سے اپنے آپ کو خریدلےتو زكات سے اسکو اتنا دیا جائے گا کہ وہ کتابت کا قرض
ادا کرسکے۔
تاکہ وہ مکمل طور پر آزاد اور تصرؾ کرنے والا بن جائے اور معاشرت کا نفع بخش رکن بن سکے اور کامل
طریقے سے اللہ کی عبادت کر سکے اور اسی میں وہ مسلمان قیدی جن سے آزادی کے لیے فدیہ مانگا گیا ہو ان کو
زكات میں اتنے پیسے دینے جائز ہیں کہ وہ اپنے آپ کو آزاد کراسکیں۔
6 مقروض -
الؽارمون
ؼارم کی جمع ہے جس پر قرض ہو۔
اور ؼارم دو طرح کے ہیں:
1۔ جس پر اپنی ضرورت کی وجہ سے قرض ہو تو اگر وہ فقیر ہے تو اسکو زكات میں سے اتنا دیا جائے گا کہ وہ
قرض ادا کر سکے۔
2۔ جس پر دومسلمان گروہوں کے درمیان صلح کرانے کی وجہ سے قرض ہو تو مالدار ہونے کے باوجود اس کو
زكات میں سے اتنا دیا جائے گا جس وہ اپنے قرض کو اتار سکے
7 اللہ کے راستے میں -
فی سبیل اللہ
ان لوگوں کو کہتے ہیں جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں۔
تو ان لوگوں کو اتنا دیا جائے گا جو اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے کافی ہو جائےاور اس میں بہت سے دعوت
کے کام داخل ہیں جن کو جہاد کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے۔
8 مسافر -
ابن السبیل
وہ مسافر جسکا مال سفر میں ہی ختم ہو جائے۔
وہ مسافر جس کے پاس کرایہ ختم ہو جائے تو اسکو اتنی زكات دینی جائز ہے جس سے وہ اپنے شہر تک پہنچ
سکے اگرچہ وہ مالدار ہی کیوں نہ ہو۔
تنبیہات
1۔ زكات مذکورہ آٹھ قسموں کے علوہ کسی کو بھی نہیں دی جا سکتی اگرچہ وہ نیکی اورخیر کے کام کیوں نہ
ہوں جیسے مسجد بنانا، مدارس، ہسپتال بنانا اور اسکے علوہ وہ کام جن میں صدقے کا مال لگایا جا سکتا ہو۔
2۔ زكات ادا کرنے میں یہ ضروری نہیں ہے کہ آٹھوں قسم کے افراد کو زكات دی جائے بلکہ ایک قسم کے لوگوں
کو زكات دینا بھی کافی ہے۔
جن کو زكات نہیں دی جا سکتی
1۔ مالدار اور قوی کمانے والے
آپ کے قول کیوجہ سے " اور اس میں کسی مالدار یاقوی کمانے والے کاکوئی حق نہیں ہے "۔] روایت کیااسکو ابو
داؤدنے[
2۔ اصول، فروع، بیوی اور وہ جن کا نفقہ آدمی پر لازم ہے۔
ان لوگوں کو زكات دینا جائز نہیں ہے جن کا نفقہ مسلمان پر فرض ہے جیسے آباواجداد ، مائیں اور دادیاں، بچے
اور پوتے وؼیرہ کیونکہ انکو زكات دینے سے وہ ان پر خرچ کرنے سے مستعفی ہو جاتا ہے حالانکہ ان پر خرچ
کرنا اس پر واجب ہے۔
تو اس سے اسکی زكات کا فائدہ اسی کی طرؾ لوٹ آتا ہے جو کہ جائز نہیں ہے اس لیے ان کو زكات دینا بھی
جائز نہیں ہے۔
3۔ مؤلفۃ القلوب کے علوہ کافر
ان کفار کو زكات دینا جائز نہیں ہے جنکی تالیؾ قلبی مقصود نہ ہو۔ آ پ نے فرمایا: " زكات ان کے مالداروں سے
لے کر ان کے ؼریبوں میں تقسیم کیا جائے گا یعنی زكات امیر مسلمانوں سے لے کر ؼریب مسلمان کو دی جائے
گی " ۔] اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے[
کیونکہ زكات کے مقاصد میں یہ ہے کہ ؼریب مسلمانوں کو مالدار بنایا جائے اور ان کےساتھ محبت اور بھائی
چارے کی فضا قائم کی جائے اور اس طرح کا تعلق کفار کے ساتھ جائز نہیں ہے تو انکو زكات بھی دینی جائز ہے۔
4 رسو ل کی اولاد ]آل النبی ، بنو ہاشم ہیں[ -
نبی کریم کی آل نب ی کو انکی شرافت اور اعزاز کی وجہ سے زكات دینا جائز نہیں ہے کیونکہ آ پ نے فرمایا کہ
" صدقات لوگوں کی میل ہے یہ نہ محم د کے لیے حلل ہے اور نہ ہی اسکی آل کے لیے "] اس حدیث کو امام مسلم
نے روایت کی ہے[
5 آل نبی کے ؼلم -
موالی آل نب ی کےوہ ؼلم ہیں جنکو آ پ کی آل نے آزاد کیا ہے۔ آ پ کا ارشاد ہے کہ " صدقہ ہمارے لیے حلل نہیں
ہے اور کسی قوم کے ؼلم اس قوم سے ہی ہوتے ہیں "۔] یہ حدیث امام ترمذی نے روایت کی ہے[
ان میں سے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان کا حکم بھی آل نب ی کے حکم کی طرح ہے یعنی زكات انکے آزاد کردہ
ؼلموں پر بھی حرام ہے۔
6 ؼلم -
ؼلم کو زكات دینا جائز نہیں ہے کیونکہ ؼلم کا مال اسکے آقا کی ملکیت ہے تو جب اسکو زكات دی جا ئیگی تو
وہ اسکے آقا کی طرؾ منتقل ہو جائیگی۔ کیونکہ ؼلم کا نفقہ اسکے آقاکے ذمے ہے لیکن اس سے مکاتب ؼلم
خارج ہے۔
مکاتب ؼلم کو اتنا دیا جائےگا جس سے وہ عقد کتابت کا قرض اتار سکے اور عامل ؼلم بھی خارج ہے اگر ؼلم
زكات اکٹھی کرنے پر مامور ہو تو اس کو زكات میں سے دیا جائے گا کیونکہ وہ ملزم کی طرح ہے۔ اور ؼلم کو
اسکی آقا کی اجازت سے اجرت پرلیا جا سکتا ہے۔
زكات نکالنا
اسکا وقت
اگر کسی شخص کا مال اسکے قبضے میں ہو تو اس پر زكات نکالنا فور اا واجب ہو جاتا ہے۔ زكات کی ادائیگی کو
صرؾ ضرورت کے تحت مؤخر کرنا جائز ہے جیسا کہ اسکا مال کسی اور ملک میں ہو یا کسی اور کے قبضےمیں ہو۔
زكات کے فور اا نکالنے پر دلیل سورۃ انعام کی آیت ہے جس میں اللہ تعال ی فرماتے ہیں" اور اس میں جو حق واجب
ہے وہ اس کے کاٹنے کے دن دیا کرو اور حد سے مت گزرو۔ "
اور اللہ تعال ی سورۃ نور میں فرماتے ہیں" نماز کی پابندی کرو، زكات ادا کرو اور اللہ تعال ی کے رسو ل کی
فرمانبرداری میں لگے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے " اور کسی چیز کا حکم بھی اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ
کام فور اا کیا جائے۔
اسکی جلدی کا حکم
دو سال یا دو سال سے کم عرصہ کے لیے وقت سے پہلے زكات ادا کر سکتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ وقت سے
پہلے ادائیگی کرتے ہوئے اسکا نصاب پورا ہو۔
زكات کے نکالنے کی جگہ
افضل تو یہ ہے کہ زكات اسی شہر میں نکالی جائےجس میں مال ہو۔ لیکن کسی حاجت کیوجہ سےایک شہر سے
دوسرے شہر منتقل کرنا جائز ہے جیسا کہ دوسرے شہر میں زكات ادا کرنے والے کہ مستحق رشتہ دار رہائش پذیر
ہوں تو اپنے قریبی رشتہ داروں کو دینا زیادہ افضل ہے کیونکہ اس میں مصلحت ہے اور صلہ رحمی کا درس ہے۔
اور زكات کو منتقل کرنا جائز اس لیے ہے کہ اللہ تعال ی کے قول میں عموم پایا جاتا ہے یعنی مطلق فقراء اور
مساکین کا ذکر ہے نہ کہ خاص کا۔ ۔
کونسا مال زكات میں دیا جائے اور کونسا نہیں۔
زكات درمیانے مال میں سے نکالی جائے۔ ضروری یہ ہے کہ مال نہ زیادہ اچھا ہو اورنہ زیادہ برا۔ اس لیے
چوپایوں میں سےموٹا تازہ جانور یا حاملہ یا ایسا نر جو ابھی بلوؼت کو نہ پہنچا ہو تو ان سب کو زكات میں دینا
لازم نہیں ہے۔
اسی طرح بہترین مال سے خام مال کو بطور زكات دینا ٹھیک نہیں ہے۔ ہاں اگر اسکا سارا مال خام ہے تو اس
صورت میں جائز ہو گا۔ یہی صورت چوپاؤں میں بھی ہے اگر اسکے تمام جانور بیمار ہیں تو پھر بیمار جانور
زكات میں دے سکتا ہے۔
اللہ تعال ی فرماتے ہیں " اے ایمان والو! اپنی پاکیزہ کمائی میں سے اور زمین میں سے تمہارے لیے نکالی ہوئی
چیزوں میں سے خرچ کرو۔ ان میں سے بری چیزوں کے خرچ کرنے کا قصد نہ کرنا، جسے تم خود لینے والے
نہیں ہو۔ ہاں اگر آنکھیں بند کر لو تو اور جان لو کہ اللہ تعال ی بے پروا اور خوبیوں والا ہے "
اور حدیث میں آتا ہے " صدقہ میں بوڑھا اور عیب دار جانور نہیں دیا جائے گا اور نہ ہی ؼیر بالػ بکرا، البتہ اگر
زكات دینے والا دینا چاہے تو دے سکتا ہے "]اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے[
اور رسو ل اللہ نے حضرت معاذ سے فرمایا " لوگوں کے بہترین مالوں سے دور رہو "] اس حدیث کو امام بخاری
نے روایت کیا ہے[
تنبیہات
1۔ زكات دینے والے پر لازم ہے کہ وہ زكات کی ادائیگی کے لیے زكات کے مستحقین ڈھونڈے، ؼیر مستحق کو
زكات نہ دے کیونکہ رسو ل اللہ فرماتے ہیں " زكات میں مالدار اور مضبوط کمانے والے کا کوئی حق نہیں ہے "]
اس حدیث کو امام ابوداؤد نے روایت کیا ہے[
زكات کا زیادہ مستحق
زكات دینے والے پر لازم ہے کہ وہ زكات کی ادائیگی کے لیے سب سے زیادہ مستحق کو ڈھونڈے جو جتنا زیادہ
مستحق ہو گا سکو زكات دینا اتنا ہی زیادہ بہتر ہے جیسے ؼریب رشتہ دار کو اور ؼریب طالب علم کو زكات دینا
دوسروں کو زكات دینے کی نسبت بہتر اور افضل ہے۔
زكات میں اہم معلومات
زكات میں قیمت
زكات میں اصل تو یہ ہے کہ جس چیز پر زكات واجب ہوتی ہے۔ اس سے زكات نکالنا چاہیےلیکن حاجت اور
مصلحت کے پیش نظر بھی جائز بھی ہے۔
زكات کے ساتھ حکومت کا تعلق
اصل زكات کا مال وہ بادشاہ کے ساتھ مختص ہے اور زكات دینے والے خود زكات نہیں نکالیں گے۔ ۔ لیکن اگر
بادشاہ اس سے باز رہیں تو پھر مسلمان خود ادا کریں گے اور ادا نہ کرنے کی صورت میں ان سے پوچھ گچھ ہو
گی۔
مستحقین کی مصلحت کیلئے زكاتکے مال کی سرمایہ کاری کرنا۔
زكات کے مال کی سرمایہ کاری کرنا جائز ہے کسی نفع مند پر وجیکٹ میں جو مستحقوں کو فائدہ دے۔ اگر جلدی
سے کوئی فائدہ مند پروجیکٹ نہ مل رہا ہو تو فوری طور پر تقسیم کر دیا جائے۔
کیا مال میں زکوۃ کے سوا بھی کوئی حق ہے ٹیکسزز کی طرح
زکوۃ شریعت کی طرؾ سے مقرر کردہ حق ہے اور اسکا ادا کرنا مالداروں پر واجب ہے۔ اور مال میں زکوۃ کے -
علوہ اور بھی حقوق ہیں جن کی مقدار معلوم نہیں ہوتی اور نہ ہی وہ زکوۃ کی طرح ثابت ہوتے ہیں اور نہ ہی ان
کے وجوب کا سبب مال ہے بلکہ وہ عارضی اسباب کی وجہ سے واجب ہو جاتے ہیں اور مال کا ہونا ان کے
وجوب کی شرط ہے جیساکہ والدین و عزیز و اقارب کا نفقہ اور بیوی کا نفقہ اور اگر بیت المال کی رقم کافی نہ ہو
تو مصیبت زدوں سے مصیبت دور کرنے کیلئے مال خرچ کرنا۔
ٹیکس کبھی بھی زکوۃ کے قائم مقام نہیں ہو سکتا اگرچہ وہ انصاؾ کی بنیاد پر ہو کیونکہ زکوۃ اللہ کی عبادات -
میں سے ایک عبادت ہے اور ٹیکس شہری حق ہے تو اس لیے دونوں میں سے کوئی بھی دوسرے کے قائم مقام
نہیں ہو سکتا۔
feqh.com/ur-www.al /مستحقین زک وۃ اور زک وۃ کا نکالنا - - - - -